25 ستمبر 2014 - 13:03
شیعہ قیدیوں کو چار مرحلوں میں قتل کیا گیا

اس شخص جس نے موصل کے ایک جیل خانے میں داعش کے چنگل سے نجات پائی ہے نے داعش کے جرائم کے دہلا دینے والے اور وحشتناک جزئیات سے پردہ اٹھایا ہے ۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ عربی نیوز چینل العالم کے حوالے سے خبر دی ہے کہ ایک شخص کہ جس نے بادوش نامی موصل عراق کے جیل میں داعش کے جرائم سے نجات پائی  اس نے ان جرائم کے دل دہلا دینے والے وحشتناک جزئیات سے پردہ اٹھایا  اور کہا : شیعہ قیدیوں کو چار مرحلوں میں قتل کیا گیا کہ جن میں آخری مرحلہ اجساد کو جلانے کا تھا ۔

محمد علی محمد برھان البدیری،دیوانیہ کا رہنے والا کہ جس نے بادوش کے قید خانے کے جرائم سے نجات پائی ہے ، نےیاد دلایا ،موصل میں بادوش کے جیل خانے کے قیدیوں  کا قتل عام بھی اسی طرح ہوا کہ جس طرح تکریت میں اسپایکر کے مرکز میں درد ناک اور وحشتناک  قتل عام ہوا تھا ،لیکن ذرائع ابلاغ نے اس موضوع کو نہیں چھیڑا اور اسپایکر کے مرکز کے قتل عام کی طرف انہوں نے کوئی توجہ نہیں دی ۔

البدیری کہ جو سال ۲۰۱۳ میں بادوش کے مرکزی قید خانے میں داخل ہوا تھا ،نے تاکید کی کہ انسانی حقوق کی تنظیموں نے کہ جنہوں نے اس قید خانے کا دورہ کیا تھا خبر دار کیا تھا کہ اس جیل کو خالی کر دیا جانا چاہیے ،اس لیے کہ اس پر لگاتار گولہ باری ہو رہی تھی اور وہ دہشت گردوں کی گولیوں کی زد میں تھا ۔

اس نے مزید کہا :اسی وجہ سے ہم نے قیدیوں کو جنوب کے علاقوں میں منتقل کرنے کا مطالبہ کیا تھا ،لیکن انسانی حقوق کی تنظیموں نے یا وزارت عدلیہ کی کمیٹیوں نے ان مطالبات پر عمل نہیں کیا ۔

البدیری ان گنے چنے گواہوں میں سے ہے کہ جنہوں نے بادوش کے جیل خانے میں ہونے والے جرائم سے پردہ اٹھایا ہے۔عراقی سایٹ ،الفرات نے لکھا ہے : اس جنایت میں فرقہ پرستی کی بنیاد پر ۵۰۳ افراد کو قتل کیا گیا ۔

اس نے دیوانیہ میں التسفیرات جیل کے اندر ایک انٹرویو میں داعش کے اس جیل پر حملے کے بارے میں بتایا اور کہا : یہ حملہ اس وقت ہوا کہ جب فوجوں نے موصل پر  داعش کےحملے کے نتیجے میں راتوں رات  جیل سے راہ فرار اختیار کی اور قیدیوں کو ان کے سیلوں کے اندر چھوڑ دیا ۔

البدیری نے مزید کہا : جب داعش کے افراد جیل میں داخل ہوئے تو انہوں نے ہمیں سات بڑی گاڑیوں پر سوار کیا کہ جو جیل کے گیٹ کے سامنے کھڑی تھیں ،اس کے بعد ان گاڑیوں نے تقریبا ۴ کیلو میٹر کی مسافت طے کی اور ایک صحرائی علاقے میں پہونچیں ۔اس کے بعد انہوں نے ہمیں فرقوں کی بنیاد پر اسی علاقے میں الگ الگ کیا ،سنیوں کو ایک طرف اور شیعوں کو ایک طرف کیا ،

اس نے یاد دلایا  کہ اس کے بعد ان کے افسر نے کہا : سنیوں کو ہتھیار دیے جائیں گے تا کہ وہ بغداد میں جنگ کریں ۔اس کے بعد سنیوں کو ان گاڑیوں پر سوار کیا کہ جو ہمیں وہاں لے گئیں تھیں ،اور ہم شیعہ کہ جن کی تعداد ۵۰۳ افراد تھی باقی رہ گئے ،مسلح افراد نے ہمیں گالیاں دیں اور ہمارے ساتھ بد سلوکی کی۔

البدیری نے یہ بتاتے ہوئے کہ انہوں نے ہمیں ایک گودال کے کنارے پر کھڑا کیا ،مزید کہا :اس کے بعد ہماری پیٹھ پیچھے سے گولہ باری شروع کی گئی جب کہ مسلح افراد ہم سے تین میٹر کے فاصلے پر تھے اس کے بعد ہم ایک کے بعد ایک گودال میں گرنے لگے ،میں اس وقت سورہء یاسین کی تلاوت کر رہا تھا ،اس وقت میرے ذہن میں خدا کی یاد اور تلاوت قرآن کے علاوہ کچھ نہیں آیا ۔

اس نے آگے مزید بتایا : جب میں گودال میں گرا تو میری عینک ٹوٹ گئی اور چند بدن میرے اوپر گر گئے ۔اس کے بعد افسر کے حکم سے دوسرا مرحلہ شروع ہوا اور انہوں نے مردہ اجساد پر گولہ باری شروع کی اس کے بعد چار افراد گودال میں داخل ہوئے تاکہ آخری گولیاں داغیں ۔وہ چار افراد جب گودال سے نکلے تو چوتھا مرحلہ یعنی اجساد کو آگ لگانے کا کام شروع ہوا تا کہ ان کا نام نشان تک مٹ جائے اور اگر کوئی زندہ رہ گیا ہو تو وہ بھی مر جائے ۔اس موقعے پر مجھے جسموں کے جلنے کی بو محسوس ہو رہی تھی اور تھوڑی تھوڑی دیر بعد میں بے ہوش جاتا تھا یہاں تک کہ مسلح افراد نے اس جگہ کو چھوڑ دیا ۔

البدیری نے کہا : میں نے ایک قیدی کی آواز سنی کہ جس کی بعد میں روح پرواز کر گئی تھی کہ وہ لو گ چلے گئے ۔

البدیری کا بیان ہے کہ : اس کے بعد ایسی حالت میں کہ دو بدن میرے اوپر گرے ہوئے تھے میں بڑی مشکل سے اٹھا ،جب کہ میں جلا ہوا تھا ، وہ بہت وحشتناک منظر تھا ۔میرے پاس ہی ایک شخص زخمی تھا  ،میں نے ایک شخص کی آواز سنی ،میں اس کے پاس گیا ،میں نے اجساد کو ادھر ادھر کر کے دیکھا کہ شاید ان کے درمیان کوئی زندہ ہو لیکن بد قسمتی سے کوئی بھی زندہ نہیں تھا وہ دو افراد بھی تھوڑی دیر کے بعد شہید ہو گئے اور میں وہاں سے چلا گیا ۔

محمد البدیری نے آخر میں انسانی حقوق کی تنظیم ،اور بین الاقوامی تنظیموں اور ذرائع ابلاغ سے مطالبہ کیا کہ اس جنایت کی کہ جس میں ایک گھنٹے میں ۵۰۳ افراد قتل ہو گئے اور اسی طرح شام کے علاقے ،بوابہ میں ۲۷۰ افراد کے قتل کی اور سد بادوش کے علاقے میں ۱۶۵ افراد کے قتل کی تحقیق کریں ۔یہ تین اجتماعی قبریں داعش کے مظالم کی گواہ ہیں ،کہ جن مقامات کو میں پہچانتا ہوں ۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

۲۴۲